ادبی مرکز کمراز جموں و کشمیر کی 41ویں سالانہ کشمیری کانفرنس ڈگری کالج خواجہ باغ بارہمولہ میں منعقد ہوئی۔

April 2, 2022
ادبی مرکز کمراز جموں و کشمیر کی 41ویں سالانہ کشمیری کانفرنس ڈگری کالج خواجہ باغ بارہمولہ میں منعقد ہوئی۔
ادبی مرکز کمراز جموں و کشمیر کی 41ویں سالانہ کشمیری کانفرنس ڈگری کالج خواجہ باغ بارہمولہ میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اشتراک گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ نے کیا تھا۔ کانفرنس میں وادی کے اطراف و اکناف سے سے تعلق رکھنے والے ادباء، دانشوروں اور سرکردہ شخصیات اور خواتین نے شرکت کی۔ آج کی کانفرنس کا موضوع تھا۔”ماجہِ زیو تہ خواتینن ہُند رول” ۔۔یاد رہے آجکی 41ویں سالانہ کشمیری کانفرنس ادبی مرکز کمراز کے روحِ رواں، قائد، سابق سرپرست ڈاکٹر عزیز حاجنی کے نذر کی گئی تھی۔
کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ نبی صلعم۔سے کیا گیا جسکی سعادت مرکز کے نائب صدر دوم جاوید اقبال ماوری کو حاصل ہوئی۔
اس دوران ادبی مرکز کمراز سابق سرپرست اور قائد ڈاکٹر عزیز حاجنی، ڈاکٹر شجاعت بخاری اور دیگر اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔ اس کے بعد ادبی مرکز کمراز کا ترانہ پیش کیا گیا۔
افتتاحی نشست میں ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ جبکہ مرکز کے جنرل سیکریٹری شبنم تلگامی نے مرکز کا سالانہ رپورٹ پیش کیا۔
کانفرنس کے افتتاحی سیشن کی صدارت جسٹس ریٹایرڈ بشیر احمد کرمانی نے کی۔جبکہ ایوانِ صدارت میں پروفیسر شاد رمضان۔ غلام نبی آتش ۔پرنسپل ڈگری کالج بارہمولہ پروفیسرعبدالمجید چالکو، اور مرکز کے صدر محمد امین بٹ بھی موجود تھے۔ اس نشست میں مقرریں نے مادری زبان کو درپیش مسائل اور اسکی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس نشست کی نظامت مرکز کے جنرل سیکریٹری شبنم تلگامی نے انجام دئے۔
کانفرنس کی پہلی نشست میں سابق سربراہ آل انڈیا ریڈیو سرینگر محترمہ رخسانہ جبین نے ” ماجہِ زیو تہ خواتینن ہُند رول” کے موضوع پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اس نشست کی صدارت پروفیسر نسیم شفائی نے کی سربراہ شعبہ اردو ڈگری کالج بارہمولہ پروفیسر مسرت گیلانی، ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی،رفیقہ رفیق اور فریدہ شوق بھی ایوانِ صدارت میں موحود تھیں۔اس نشست کی نظامت کے فرائض گڈمارننگ جے اینڈ کے کیمعروف اینکر اقراءآخون صاحبہ نے انجام دئے۔
کانفرنس کی دوسری نشست میں قرار دادیں پیش کی گئیں۔ جو کشمیری زبان کو درپیش مسائل کے تناظر میں ترتیب دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کی ادبی اور ثقافتی تنظیموں اور کتابوں کی اشاعت کے لئے کلچرل اکیڈیمی کی جانب سے دئے جانے والے گرانٹ اِن ایڈ کو واگزار کئے جانے پر زور دیا گیا۔
اس نشست کی صدارت سرکردہ ادیب دانشور اور قلمکار پروفیسر محمد زمان آزردہ نے کی۔جبکہ پروفیسر بشر بشیر۔پروفیسرآفاق عزیز،جناب مشتاق احمد مشتاق پرنسپل میر شبیر، جناب فیاض تلگامی , جناب عبدالاحد حاجبی ،جناب محی الدین ریشی اور معروف شاعر جناب بشیر دادا بھی ایوانِ صدارت میں تشریف فرما تھے۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض ادبی مرکز کمراز کے سیکریٹری فاروق شاہین نے انجام دئے۔
کانفرنس کی تیسری نشست میں معروف جواں سال صحافی رفعت عبداللہ، ناظمِ تعلیمات کشمیر ڈاکٹر تصدق حُسین اور معروف نعت خواں درگاہ شریف حضرت بل سرینگر ابوالحسن فاروقی کو خلعتِ حنفی سوپوری ٢٠٢١ء اعزازات سے نوازا گیا۔ ناظمِ تعلیمات کشمیر کی عدم موجودگی میں اُن کا اعزاز محکمہ سکولی تعلیم کے دو پرنسپل صاحبان میر شبیر احمد اور مشتاق سوپوری نے حاصل۔کیا جبکہ ابوالحسن فاروقی کا اعزاز معروف عالم اور مفکر اعجاز احمد ککرو نے حاصل کیا۔
اس نشست کی صدارت اسلامک یونیورسٹی آف سائینس اینڈ کامرس اونتی پورہ پروفیسر شکیل احمد رامشو نے کی۔ جبکہ اس نشست میں ڈایریکٹر محکمہ سیاحت کشمیر ڈاکٹر جی این ایتومہمانِ خصوصی کے طور تقریب پر موجود تھے۔ان کے ہمراہ پروفیسر محمد زمان آزردہ اور نسیم شفائی بھی ایوان میں موجود تھے۔
اسی نشست کے دوران ادبی مرکز کمراز کا رسالہ “پرو” کا خصوصی شمارہ بیادِ ڈاکٹر سید شجاعت بخاری اور عتیقہ بہن جی اجراء کیا گیا۔ رسمِ اجرائی کے دوران سید بشارت بخاری، سید ناصر، پروفیسر خورشید الاسلام، صحافی جیلانی کامران، مجلس النساء کے صدر مزمل بشیر۔مسعودی، اور مرکز کے نائب صدر اول اختر حسین منصور بھی موجود تھے۔ اس نشست کی نظامت شبنم تلگامی۔نے انجام دئے۔
کانفرنس کے اختتام پر ادبی مرکز کمراز کے نائب صدر اول سید اختر حسین منصور نے شرکاء ، مہمانوں ، اور کالج کے پرنسپل اور سٹاف کا شکریہ ادا کیا۔ اس کانفرنس کے لئے پارساز فوڈ فار آل اور محکمہ سیاحت کشمیر کا تعاون بھی حاصل رہا۔
جمیل انصاری
میڈیا سیکریٹری
ادبی مرکز کمراز

Related articles